واشنگٹن /6نومبر (آئی این ایس انڈیا) صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والی امریکی تنظیم فریڈم ہاؤس کی 2019کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان جمہوری، سیاسی، مذہبی، سماجی اور اظہار رائے کی آزادی کے لحاظ سے دنیا کے ایک سو ملکوں میں سے 39 ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان آزادی،سیاسی حقوق، شہری آزادیوں کے حوالے سے جزوی طور پر آزاد ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2018کے انتخابات میں تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری،تاہم پاکستان کے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی، جس کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کو کامیاب کروانا تھا۔ جب کہ انتخابات سے قبل سیاسی بنیادوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں اور قائدین کے خلاف مقدمات بنائے اور چلائے گئے۔ساتھ ہی عدالتوں اور ذرائع ابلاغ پر فوج کے مبینہ اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھا گیا۔سیاسی جماعتوں کو ذرائع ابلاغ تک مساوی رسائی حاصل نہیں تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی نوعیت کا مبینہ ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے انتخابی میدان سے باہر رہنے کی وجہ بنا۔ ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور مداخلت کی حکمت عملی نے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو عوامی توجہ سے محروم رکھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان 2018 کے دوران میڈیا زوال کا شکار رہا۔ جیو اور ڈان جیسے اداروں کو عارضی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں کو سینسرشپ اور ملکی اداروں کی طرف سے دباؤ اور ہراساں کرنے کے واقعات کا سامنا رہا۔رپورٹ کے مطابق پشتون تحفظ تحریک کی پر امن سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کو استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر سخت سیکورٹی انتظامات انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں معاون نہیں بلکہ اس میں حائل ہوتے نظر آئے۔ جبکہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد سویلین حکومت خود کو فوج کی ترجیحات کے ساتھ زیادہ منسلک کرتی دکھائی دی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کرپشن کیسز کا سامنا کرتی رہی۔